urdu news today live

وقف ترمیمی قانون کے متعلق سپریم کورٹ کی عبوری روکخوش آئند
ترمیمات کے جواز پر ججوں کا سوال اٹھانا اوقاف کے حق میں بہت بڑی کامیابی: ضمیر احمد خان
بنگلورو۔17 اپریل (سالار نیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے متنازعہ وقف ترمیمی قانو ن کے بارے میں سپریم کورٹ میں گزشتہ دو دنوں سے جاری سماعت کے دوران جو پیش رفت ہوئی ہے اسے ریاستی وزیر برائے ہاوزنگ ، اقلیتی بہبود اور اوقاف ضمیر احمد خان نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے ےہ یقین دہانی کے وہ وقف کونسل یا وقف بورڈ کےلئے سماعت پوری ہونے تک کسی غیر مسلم نمائندے کو مقرر نہیں کرے گی اور اسی طرح اس ترمیمی قانون کی کسی شق کو نافذ نہیں کرے گی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران عدالت عظمی کے فاضل ججوں نے مرکزی وقف ایکٹ میں ترمیمات کے جواز پر جو سوال اٹھائے ہیں ان سے عدلےہ پر اعتماد اور مضبوط ہوا ہے اور امید ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس قانون کے معاملہ میں آئین سے انحرف کرنے کی جو کوشش کی گئی تھی اس کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بائی یوزر اور وقف کونسل و وقف بورڈ میں غیر مسلم نمائندوں کے تقرر کو لے کر چیف جسٹس اور دیگر فاضل ججوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا کسی ہندو بور ڈ میں مسلمانوں کو شامل کیا جائے گا اپنی جگہ کافی اہمےت کے حامل ہیں ۔ اوقاف کی مذہبی نوعیت کو متاثر کرنے کےلئے مرکزی حکومت نے جس بدنیتی سے کوشش کی تھی اس کو عدالت نے تقریباً ناکام کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چہارشنبہ کے روز ہی اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے عبوری فیصلہ صادر ہو جاتا تاہم مرکزی حکومت کی طرف سے اس معاملہ میں عدالت کے سامنے اپنا موقف واضح کرنے کےلئے مہلت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے امید کی کہ 5مئی کو جب عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی اگلی سماعت ہو گی اور مرکزی حکومت کی طرف سے اپنا موقف واضح کیا جائے گا اس کے بعد عدالت کے جانب سے اس معاملہ میں راست طور پر متاثر ہونے والے مسلمانوں کو ضرور انصاف دیا جائے گا مرکزی حکومت کی طرف سے وقف قانون میں ترمیم کے نام پر جس طرح کی زیادتی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کو روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کیس میں عدالت نے جو فیصلہ صادر کیا ہے اس سے انصاف پر یقین رکھنے والوں کا اعتماد پختہ ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے وقف قانون میں ترمیم کر کے اوقاف کے وجود کو خطرہ میں ڈالنے کی جو کوشش کی تھی لیکن عدالت عظمی نے اپنے فیصلہ کے ذریعے متنازعہ قانون کی 75فیصد ناقابل قبول شقوں کو روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں پےروی کر کے عدالت کے سامنے ہمارا موقف رکھنے والے سینئر وکلاءکپل سبل، ابھیشک سنگھوی، حدیفہ احمدی،نظام علی اور دیگر تمام وکیلوں کے وہ شکرگزار ہیں۔

6 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *