urdu news today live

نجی اسکولوں کی طرف سے فیس میں غیر منصفانہ اضافہ کے خلاف شکایت
چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن کی طرف سے اسکولوں کے ذمہ داروں کو نوٹس جاری
بنگلورو۔21 اپرےل(سالار نیوز)کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کو اس سال والدین کی جانب سے فیسوں میں غیر معمولی اضافہ اور بنگلورو کے کئی اعلیٰ نجی غیر امدادی اسکولوں کی جانب سے غیر منصفانہ طرز عمل سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔زیادہ تر شکایات کا تعلق اسکول کی فیسوں میں بلاجواز اضافے، فیسوں پر نظرثانی میں شفافیت کے فقدان، اور والدین پر نصابی کتب، یونیفارم، جوتے، بیگ اور دیگر سامان متعین دکانداروں سے خریدنے کےلئے دباو¿ سے متعلق ہےں۔ ان شکایات کے بعد، کمیشن نے کچھ اسکولوں کو نوٹس جاری کئے ہیں، جن میں سے زیادہ ترسنٹرل بورڈ سے منسلک ہیں۔شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے کمیشن نے نوٹس جاری کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن کے ناگنا گوڑا نے ڈی ایچ کی طرف سے کہا کہ ہمیں اس سال 300سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہم ہر معاملہ کی سنگینی کی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں۔ بدھ کو، ہم نےسنٹرل بنگلور میں ایک معزز گروپ کے ذریعہ چلائے جانے والے تین اسکولوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کمشنر برائے اسکول ایجوکیشن کو لکھے گا کہ وہ ان اداروں کے خلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کرے جو تعلیم کے حق(آر ٹی ای)ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے ہیں۔اصولوں کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کو فیسوں میں سالانہ 10سے 12فیصد اضافہ کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم، کچھ اسکولوں نے مبینہ طور پر اس سال فیسوں میں 40فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ گوڑا نے کہا، ”ہم نے غیر معمولی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر کچھ از خود شکایات بھی درج کی ہیں۔ حکومت کو فیس کے تعین کے معاملہ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اسکولوں کی نگرانی کرنی چاہئے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ فیس کس بنیاد پر بڑھائی جا رہی ہے۔کمیشن ان شکایات کا بھی جائزہ لے رہا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسکولوں نے والدین کو ہراساں کیا اور بچوں کو سزا دی جب ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کی درخواستیں کی گئیں۔ کچھ معاملات میں، اسکولوں نے مبینہ طور پر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کو روک دیا ہے جب تک کہ والدین پورے سال کی فیس کو کلیئر نہ کر دیں۔ کچھ شکایات میں جسمانی سزا کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔”ہم ایسے معاملات کی تصدیق کر رہے ہیں، اور اگر انکوائری کے دوران الزامات ثابت ہوتے ہیں، تو ہم آر ٹی ای ایکٹ کے مطابق کارروائی کی سفارش کریں گے۔“گوڑا نے یقین دلایا۔

8 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *