رےاست بھرمےںنئے تعلےمی سال آغاز
61سرکاری اسکولوں مےں پےنے کے پانی اوربےت الخلاءکانظم نہےں
بنگلور۔2جون(سالارنےوز)ریاست بھر میں اسکول کھل گئے ہیں،نےاتعلےمی سال شروع ہوچکاہے۔ چھوٹے بچے اب گھر سے چھٹیاں ختم کرکے واپس اسکول جارہے ہیں۔ امیروں کے بچے بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں جا رہے ہیں۔ لیکن دیہی علاقوں کے غریبوں کے بچے سرکاری ا سکولوں میں جا رہے ہیں۔ لیکن ان سرکاری اسکولوں میں پینے کے پانی اور بیت الخلاءکی سہولتےں بھی مناسب نہیں۔ کچھ اسکولوں میں بیت الخلاءتک نہیں ہیں۔ سرکاری اسکولوں کو بچانے اور ترقی کی باتےں کی جاتی ہےںاوراسکولوں کی حالت اےسی ہے۔ حکومت سرکاری اسکولوں کی ترقی کو ترجیح دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت میں سرکاری اسکولوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ غریب بچوں کو نہ صرف پینے کے پانی اور بیت الخلاءکی کمی ہے بلکہ انہیں ایسی عمارتوں میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے جو اچھی حالت میں نہیں ہیں اورخستہ حال عمارتوں مےں بےٹھ کر سبق پڑھنے پرمجبورہےں۔ محکمہ تعلیمات کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ریاست کے 61 اسرکاری اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے اور 170 اسکولوں میں بیت الخلاءتک نہیں ہے۔ ایسے میں محکمہ تعلیم کو اس کی اصلاح کے لئے پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کو اس جانب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں کی ترقی کو ترجیح دیں گے۔ اس معاملہ میں، محکمہ کو ایسے اسکولوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جنہیں کم سے کم بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ طالب علم سرکاری اسکولوں میں آ رہے ہیں۔ اس صورت میں انہیں کم از کم پینے کے پانی اور بیت الخلاءکی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔