urdu news today live

سدارامیا کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کےلئے مخالفت کی ماسٹر پلان
ملےکارجن کھرگے کو کرناٹک کا وزیر اعلیٰ بنانے کی خاموشی سے تیاری
بنگلورو ۔5 جولائی(سالار نیوز) ستمبر کے دوران کانگریس میں بڑی تبدیلی کے بارے میں ریاستی وزیر کے این راجنا کے انکشاف کے بعد و زیر اعلیٰ سدارامیا کی طرف سے ےہ بیان دیا گیا کہ وہ ریاست میں پانچ سال تک وزیر اعلیٰ بنے رہیں گے۔ اس کے بعد ےہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی کے اہم ترین دعویدار نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور ان کے حامیوں کی طرف سے سدارامیا کی جگہ کانگریس صدر ملےکارجن کھرگے کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے کی کوشش تیز کر دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اہندا طبقات کو لے کر سیاست کرنے والی سدارامیا کی حکمت عملی کو مات دینے کے مقصد سے ایک دلت رہنما کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہا ےہ جا رہا ہے کہ ڈی کے شیو کمار نے حال ہی میں ایک میٹنگ کے دوران صاف طور پر کہہ دیا کہ اگر ملےکارجن کھرگے ریاست کے وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو ان کے ساتھ کام کرنے کےلئے وہ تیار ہیں ۔اس کےلئے انہوں نے وزیر اعلیٰ کی کرسی کی دوڑ سے ہٹ جانے کا آفر بھی دیا ہے۔ ڈی کے شیو کمار کی ےہ حکمت عملی وزیر اعلیٰ کےلئے درد سربن گئی ہے۔ حالانکہ ےہ نہیں مانا جا رہا ہے کہ کانگریس کے قومی صدر ہو تے ہوئے کھرگے ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے آفر کو منظور کریں گے لیکن ان پر سیاسی دباو¿ بنانے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کےلئے ڈی کے شیو کمار کی گروپ کافی خاموشی سے کام کر رہی ہے اور اس کام میں ان کو اے آئی سی سی جنرل سکریٹریوں کے سی وینو گوپال اور رندیپ سنگھ سرجے والا کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کہا ےہ جا رہا ہے کہ وینوگوپال اور سرجے والا اے آئی سی سی ہیڈ کواٹرس میں کھرگے کے دبدبے سے پریشان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر کانگریس کی صدارت کےلئے گاندھی خاندا ن سے کی کسی کو چنا جائے ہو سکتا ہے کہ ےہ ذمہ داری اس بار پرےنکا گاندھی کو دینے کی کوشش کی جائے ۔ تاہم کھرگے کی طرف سے ریاست کی سیاست میں لوٹنے کے آفر کو منظور کیا جاتا ہے یا نہیں ےہ آنے والا وقت ہی بتاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *