urdu news today live

ناموس صحابہؓکے تحفظ اور امت کی رہنمائی کے لیے جمعہ کو ریاست کرناٹک میں ”یومِ صحابہؓ“ منانے کا اعلان!
امیر شریعت کرناٹک اور دیگر علماءکی ائمہ و خطباءسے جمعہ کے خطبات میں” عظمت صحابہ ‘ؓ‘پر روشنی ڈالنے کی اپیل!
بنگلور، 17 جولائی (راست ) امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی، مفتی محمد شعیب اللہ خان مفتاحی (بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم بنگلور)، مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیة علماءکرناٹک)، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور) نے علمائ، ائمہ و خطباءکرام کے نام ایک اہم اپیل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امت مسلمہ اس وقت ایک نازک ترین دور سے گزر رہی ہے، جہاں عقائد، شعائر اسلام اور مقدسات پر حملے تیز تر ہو رہے ہیں۔ سوشےل میڈیا سے لے کر منبر و محراب تک بعض فتنہ پرور عناصر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ امت کی دینی بنیادوں کو کمزور کر کے نئی نسل کو شکوک و شبہات کی دلدل میں دھکیلنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔ صحابہ کرامؓ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ قربانیاں دیں اور جن کی عظمت پر خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مہرِ تصدیق ثبت فرمائی ۔انہوں نے کہا کہ آج جبکہ ان مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس پر زبان درازی کی جا رہی ہے، امت کو بالعموم اور اہل علم کو بالخصوص ایک منظم علمی و فکری محاذ پر سرگرم ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ بروز جمعہ یعنی 18 جولائی پوری ریاست کرناٹک میں ”یومِ صحابہؓ“ کے طور پر منایا جائے، تاکہ امت کو صحابہ کرامؓ کی عظمت، ان کی دینی خدمات، ان کا عدل و تقویٰ، اور اہل السنة والجماعة کا ان کے متعلق معتدل اور حق پر مبنی موقف ازسرِنو یاد دلایا جا سکے۔ لہٰذا ہم ریاست بھر کے علماءو ائمہ کرام سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ اس جمعہ کے خطبہ میں صحابہ کرامؓ کی شان و فضیلت پر روشنی ڈالیں۔ صحابہؓ کے عدل و انصاف، دیانت و تقویٰ، اور دین کے لیے ان کی جانثاری کو اجاگر کریں۔ گستاخوں کے فتنہ سے نئی نسل کو بچانے کے لیے ان کے ذہنوں کو منور کریں۔ صحابہ کرامؓ کے متعلق اہل سنت والجماعت کا متوازن، معتدل اور اجماعی موقف واضح طور پر بیان کریں۔ اور امت کو یہ شعور دیں کہ صحابہؓ کی توہین دراصل دین کے بنیادی ستون کو ہلانے کے مترادف ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم صرف دل میں محبتِ صحابہؓ پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ان کی عظمت کے تحفظ کے لیے زبان و قلم سے، وعظ و نصیحت اور فکر و عمل سے کھل کر میدان میں آئیں۔ یاد رکھیں! صحابہؓ کا دفاع، دین کا دفاع ہے۔ ان کی توہین، دین کی بنیادوں پر حملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرامؓ کی محبت، عقیدت، اور دفاع کے فریضہ میں مخلص بنائے اور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *