urdu news today live

اراکین اسمبلی کو فنڈس کی تقسیم میں سیاسی انتقام کے الزامات بے بنیاد
سابقہ بی جے پی حکومت کے فارمولہ کو اپنا کر ہی فنڈس تقسیم کئے گئے ہیں: پرمیشور
بنگلورو۔19 جولائی(سالار نیوز)اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ان کے ایم ایل ایز کی نمائندگی کرنے والے حلقوں کو ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں امتیازی سلوک کے الزام کو مستردکرتے ہوئے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے ہفتہ کو کہا کہ کانگریس حکومت سابقہ بی جے پی حکومت کی نظیر پر عمل پیرا ہے۔کسی بھی انتقام کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حلقوں کی ترقیاتی ضروریات کی بنیاد پر فنڈز مختص کیے جائیں گے۔بی جے پی لیڈر اور اسمبلی کے اپوزیشن لےڈر آر اشوکا نے جمعہ کو امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں ترقیاتی کاموں کےلئے کانگریس ایم ایل اے کی نمائندگی کرنے والے حلقوں کو 50کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں، وہیں دستیاب معلومات کے مطابق بی جے پی اور جے ڈی(ایس)کے حلقوں کو صرف 25کروڑ روپے ملیں گے۔جے ڈی (ایس)نے بھی سوال کیا کہ کیا بی جے پی اور جے ڈی (ایس)ایم ایل ایز کی نمائندگی کرنے والے حلقوں کو مساوی گرانٹ نہ دے کر امتیازی سلوک کرنا درست ہے، جبکہ کانگریس ایم ایل اے کو 50کروڑ روپے مختص کرتے ہیں۔پرمیشورا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا وزیر اعلیٰ (سدارامیا) نے کہا ہے کہ بی جے پی یا جے ڈی (ایس)کے ایم ایل ایز کو فنڈز نہیں دیئے جائیں گے؟ انہوں نے ہی یہ رواج پچھلی حکومت کے دوران شروع کیا تھا۔ پھر حکمران پارٹی کے ایم ایل ایز کو ایک رقم دی گئی اور اپوزیشن ایم ایل ایز کو مختلف رقم دی گئی۔انہوں نے مزید کہا ”انہوں نے(بی جے پی)نے اپنے ایم ایل اے کو 50کروڑ روپے دئےے تھے، جب کہ ہمیں(کانگریس ایم ایل اے)کو 25کروڑ، 20کروڑ روپے، یا اس سے بھی کم10کروڑ روپے دئےے گئے تھے۔ ہم اسی نظام کی پیروی کر رہے ہیں۔“ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹرپرمیشورا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ اپوزیشن ایم ایل ایز کو فنڈز دینے سے انکار کیا جائے گا۔ مختص ہر حلقہ کی ترقیاتی ضروریات پر مبنی ہوں گے۔انہوں نے کانگریس حکومت کے ”انتقام کی سیاست“ کے دعووں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی زیادہ ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہوگی، زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ نسبتاً ترقی یافتہ حلقوں میں، تھوڑی رقم فراہم کی جائے گی۔ یہ وہ پیمانہ ہے جس پر ہم عمل کریں گے۔شیوکمار عرف بکلو شیوا کے قتل سے متعلق ایف آئی آر کی تحقیقات کے ایک حصہ کے طور پر بی جے پی ایم ایل اے بیراتھی اے بسواراج کو پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے نوٹس بھیجے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر پرمیشور نے کہا کہ ایم ایل اے کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔تفتیش آگے بڑھے گی۔ اس کے (بسوراج کے) ملوث ہونے یا اس کیس سے کسی بھی تعلق کی جانچ کی جائے گی اور نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بی جے پی کے اس دعویٰ کا جواب دیتے ہوئے کہ بسوراج کے خلاف مقدمہ سیاسی طور پر محرک ہے، پرمیشورا نے کہا کہکانگریس حکومت کو اقتدار میں آئے تقریباً ڈھائی سال ہو چکے ہیں۔ اب تک کتنے سیاسی طور پر محرک مقدمے درج کئے گئے ہیں؟ اگر شکایت کنندہ نے ایم ایل اے کا نام نہ بتایا ہوتا تو یہ بالکل سامنے نہیں آتا۔ شکایت کنندہ کا سیاسی مقصد کیا ہوتا؟دھرمستھلا میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مبینہ اجتماعی قتل، عصمت دری اور تدفین کی تحقیقات کےلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)کی تشکیل کے مطالبہ کے بارے میں، وزیر داخلہ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اگر مزید تفصیلی تحقیقات ضروری سمجھی گئی تو حکومت فیصلہ کرے گی۔یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ انہیں معلوم ہے کہ وکلاءکے ایک گروپ نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تھی اور ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ٰنے یقین دلایا ہے کہ ضرورت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا”محکمہ پولیس مختلف گروہوں کے مطالبات کی بنیاد پر کام نہیں کرتا ہے۔ وہاں ایک نظام موجود ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔“

One thought on “

  1. Купить диплом о высшем образовании!
    Мы можем предложить дипломы психологов, юристов, экономистов и других профессий по приятным тарифам— [url=http://vuz-diploma.ru/]vuz-diploma.ru[/url]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *