urdu news today live

آئےن کو طاقتور اورمضبوط بنائےں ورنہ تشدد عام ہوجائے گا
بی اےل ڈی ای اسوسی اےشن کے بانےوں کی برسی تقرےب سے ملےکارجن کھرگے کا خطاب
وجئے پور ۔27جولائی (رفےع بھنڈاری) تعلےمی مےدان مےں سےاست کو ہرگز داخل نہےں ہونیا چاہئے بلکہ تعلےمی مےدان سےاست سے پاک رہنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔آج ےہاں بی اےل ڈی ای اسوسی اےشن کے بانےوں مےں بی اےم پاٹل ، پھگوہلٹی، بنگارما سجن اور شےوگی بنتال سوامی کی برسی کے موقع پر اےک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی سی سی صدر و راجےہ سبھا مےں اپوےشن لےڈر ملےکارجن کھرگے نے اس خےال کا اظہار کےا۔ انہوں نے مذکورہ بانےوں کو زبردست خراج عقےدت پےش کرتے ہوئے واضح طور پربتاےا کہ بی اےل ڈی ای اسوسی اےشن کی جانب سے ےہاں قائم کردہ متعدد تعلےمی اداروں کی کامےابی راز ہے کہ اس تعلےمی ادارے مےں کبھی سےاست داخل نہےں ہوئی۔ خصوصی طور پر آنجہانی بی اےم پاٹل نے اس ادارے کو خلوص نےت اور اعلیٰ مقصد کے تحت اس علاقہ مےں حصول تعلےم کے مقصد کے لئے قائم کےا اور ان کے فرزند اےم بی پاٹل نے اپنے مرحوم والد کے نقش قدم پر چل کر بی اےل ڈی ای اسوسی اےشن کے ماتحت مےڈےکل سمےت پےشہ وارانہ کالج اور جملہ سےنکڑوں تعلےمی ادارے قائم کرتے ہوئے وجئے پور کو تعلےمی ہب مےں تبدےل کےا تو آج وجئے پور کا نقشہ ہی بدل گےا ہے اور ہزاروں نوجوان تعلےم ےافتہ ہوتے جارہے ہےں ۔کھرگے نے بتاےا کہ ےہاں بی اےل ڈی ای مےڈےکل کا قےام کورٹ کے اےک تارےخ ساز فےصلہ کے بعد ہوا ہے تو اےسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کالج کو شروع کرنے مےں اس وقت مرحوم بی اےم پاٹل کو کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جو آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آج ےہ کالج ڈےمڈ ےونےورسٹی مےں تبدےل ہو کر اےک سوپر اسپےشالٹی اسپتال کی شکل اختےار کرچکی ہے جس مےں بائی پاس، گردوں اور لےور کے آپرےشنس ہورہے ہےں ۔اس موقع پر اپنے نجی اےک ادارے کے جانب سے بنگلور مےں سدھارت مےڈےکل کالج کو شروع کرنے اور اسے چلانے مےں جو رکاوٹےں پےش آئیں اس پرہوئی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلےمی ادارے کو کامےابی کے ساتھ چلانے کے لئے مےنجمنٹ کو چاہئے کہ خدمت کے جذبہ کے تحت کام کرے نہ کہ پےسہ کمانے کے لئے ۔ کھرگے نے بتاےا کہ آئےن سے متعلق بہت کم لوگوں کو علم ہے تو دوسری جانب چند لوگ آئےن کی مخالفت کررہے ہےں جن کے ناپاک ارادوں کا کئی مرتبہ پردہ فاش ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے و اضح الفاظ مےں کہا کہ دےش اگر صحےح معنوں مےں آئےن کے مطابق چلتا ہے تو ترقی و خوشحالی ےقےنی ہے ۔اونچ نےچ کا ازالہ ممکن ہے اور مساوات و برابری کی جڑےں مضبوط ہوسکتی ہےں ورنہ ملک بربادی کی جانب چلا جائے گا۔خون خرابہ ہوگا ، تشدد عام ہوگا اور فرقہ وارانہ طاقتوں کے حوصلے بلند ہوجائےں گے ۔لہٰذا اےسی طاقتوں کو ہمےں کامےاب ہونے نہےں دےنا چاہئے جس کے لئے آئےن کو طاقتور اور مضبوط بنانے کے لئے ہمےں راستو ںپر آنے کی ضرورت ہے اور ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانا ہراےک شہری کا فرض ہے ۔بنگلور کے ہبلی مٹھ مہاسنتھا مٹھ کے شےوردر مہاسوامی نے اس جلسہ کی ساندےہ کی۔ اےم بی پاٹل نے خےر مقدم کےا۔ قبل ازےں کھرگے نے بی اےم پاٹل مےڈےکل کالج اور اسپتال مےں بچوں کے ICU ےونٹ ، پھگو ہلکٹی بھون، بی اےل ڈی ای آےوروےدک کالج مےں ہائی ٹےک آےوروےدک ےونٹ ، شکشک بھون کا افتتاح کےا۔ درےں اثناءکھرگے نے مےڈےا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتاےا کہ نائب صدر جمہورےہ دھنکر کے استعفیٰ کا معاملہ کئی رازوں سے ڈھکا ہوا ہے جس کا جواب دھنکر ہی دے سکتے ہےں ۔ انہوں نے رواں پارلےمانی سےشن مےں رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جانب سے دونوں اےوانوں مےںکئی ٹھوس معاملات مےں نوٹس دئے جانے کے باوجود ہمےں کوئی سننے والا نہےں جبکہ ہم چاہتے ہےں کہ غرےبوں ، دلتوں ، کسانوں کے مسائل سے متعلق بحث ہو۔
مسلم نوجوانوں کی فکری تربےت اور ہر مسلم آبادی مےں کونسلنگ ضروری۔مولانا خالد سےف اللہ رحمانی
جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری۔جمہورےت کی اصل طاقت ہے : جنرل سکرےٹری بورڈ
نئی دہلی۔27جولائی (راست ) اسلامک فقہ اکیڈمی کی جانب سے اکیڈمی کے سمینار ہال میں دوروزہ سمینارکا انعقاد ہوا، جس کی افتتاحی نشست کی صدارت اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری وآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی۔ صدر بورڈ نے اپنے خطاب میں اپنے مقالہ کے حوالہ سے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر مسلم آبادی میں کونسلنگ سینٹر ہونا چاہئے، جس میں ایک عالم دین، ایک ماہر نفسیات یا معاملات طے کرنے کا تجربہ کار، اور ایک ایسا شخص شامل ہو جو سماج میں اثر ورسوخ رکھتا ہو اور فریقین ا±س کا اخلاقی دباو¿ محسوس کرتے ہوں۔ ایسا کاو¿نسلنگ سنٹر ہر مسجد کے تحت، یا آبادی میں مدرسہ ہو تو اس کے تحت قائم کیا جاسکتا ہے۔ ملی تنظیموں، علماء اور سماجی رہنماو¿ں کو اس پہلو پر فوری توجہ کرنے کی ضرورت ہے؛ تاکہ قانونِ شریعت سے متعلق مسائل میں غیر کی مداخلت سے بچا جاسکے۔پروگرام کا آغاز عزیز سعد اشرف کی تلاوت سے ہوا، نعت پاک عزیزم محمد ہاشم نے پیش کیا۔مولانامحمد عبید اللہ اسعدی نے اپنے خطاب میں اکیڈمی کی خدمات پر روشنی ڈالی۔مولانا عتیق احمد بستوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ آج کل نوجوان یا تو جذبات میں آکر متاثر ہوجاتے ہیں، یا پھر مایوسی کے شکار ہوجاتے ہیں، مایوسی کا رجحان بہت ہی خطرناک ہے، نوجوانوں کو صحابہ کرام کے واقعات پڑھنے چاہئیں کہ ان کو کیسی کیسی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، اور اپنے اسلاف کی تاریخ بھی پڑھنی چاہئے، مولاناموصوف نے اپنی کتاب ”ہندوستان میں نفاذ شریعت کی تاریخ “ کا مطالعہ کرنے کی نوجوانوں کو ترغیب دی۔اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحیم مجددی نے ارتداد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔مولانا رضی الاسلام ندوی نے کہاکہ الحاد آج کے دور کا سب سے بڑا فکری چیلنج ہے، مولانا نے سماجی حالات کو سدھارنے پر زور دیا اورکہا کہ اس کی شروعات علماءورہبران کو پہلے اپنے گھروں سے شروعات کرنی چاہئے، تاکہ سماج میں اچھا اثر پڑسکے۔مفتی انور علی اعظمی نے جہیز کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا، بنارس ومالیگاو¿ں کی کچھ مثالیں بھی پیش کی۔ موصوف نے مخلوط تعلیم کی برائیں بھی گنائیں۔افتتاحی اجلاس کی نظامت مفتی احمد نادر قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دی۔سمینار کی دوسری نشست کا آغاز27جولائی کی صبح دس بجے ہوا، جس کی صدارت مفتی انور علی اعظمی نے کی، نظامت کے فرائض مفتی امتیاز احمد قاسمی نے انجام دیئے۔اس نشست میں چار مقالے پیش کئے گئے۔سمینار کی تیسری نشست مولانا انیس الرحمن قاسمی کی صدارت مےں ہوئی۔ جس مےں تین مقالے پیش ہوئے۔سمینار کی آخری نشست مولانا رضی الاسلام ندوی کی صدارت میں ہوئی۔ اس میں بعض مقررین نے اظہار خیال کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *