urdu news today live

ملک کے مہنگے ترےن شہروں مےں بنگلورسرفہرست
بہت سارے جوڑے بچے پےدانہ کرنے کافےصلہ کررہے ہےں!
بنگلور۔22اگست (سالارنےوز)بنگلورو میں بہت سے جوڑے بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ مہنگی زندگی، ملازمت کا دباو¿، اور مالی مسائل اس کی وجوہات بتائے جارہے ہیں۔ ےہ جوڑے اپنی شادی کے اوائل میں ہی اس فیصلے پر آ رہے ہیں۔ وہ کیریئر اور والدین کی ذمہ داریوں کے درمیان جدوجہد کر رہے ہیں۔ بچے کی پیدائش کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل ایک اور وجہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے پیدا نہ کرنا برا والدین بننے سے بہتر ہے۔ یہ اطلاع دکن ہیرالڈ نے دی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کرناٹک میں 2012 سے اب تک شرح پیدائش میں 17 فیصد کمی آئی ہے۔اس کی بنیادی وجوہات خواتین اور مردوں میں کم شرح پیدائش، خاندان میں بچوں کی تعداد کا محدود ہونا اور شادیوں کی تعداد میں کمی ہے۔ ڈاکٹروں اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل کے پےش نظردارالحکومت بنگلور میں زیادہ تر جوڑے بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ بنگلور میں جوڑوں کی طرف سے اولاد نہ چاہنے کی کیا وجوہات ہیں؟اس کی وضاحت ےوں کی جارہی ہے کہ بنگلور کی مہنگی زندگی ،(کہاجارہاہے کہ شہربنگلورہندوستان کاسب سے مہنگاشہربن گےا)،ےہاں زندگی گزارنے کے لےے اےک معمولی فےملی کے لےے کم سے کم ماہانہ35ہزار885روپئے درکارہےں۔ بچوں کے لیے اسکول کی آسمان چھوتی فیس۔ ملٹی نےشنل کمپنےوںکی دباﺅ والی نوکریاں، ملازمتوں مےں اچانک کٹوتی، گزران زندگی کی حفاظت کا فقدان۔ بنگلور ہجرت کرنے کے بعد خاندان کا مالی طور پر پسماندہ ہونا۔ بچے کی پیدائش کی وجہ سے عورت کو جسمانی اور ذہنی مسائل کاخوف۔ جوڑے کوےہ خوف ہے کہ بچہ کی پےدائش سے ان کو ملنے والے خوشگوار دنوں میں مداخلت ہو سکتی ہے،ےعنی جوڑے کواپنی سےروسےاحت اور تفریح والی پرتعےش زندگی متاثرہوسکنے کاخوف ہے۔ کچھ جوڑے آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سوچتے ہوئے بچہ کی پےدائش کے سلسلہ مےں ہچکچاہٹ کاشکارہےں۔ سنیل جون کاکہناہے کہ والدین بننے خواب سے بچے پیدا نہ کرنا بہتر ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو بچے نہیں چاہتے۔ پچھلے مہینے دو نئے جوڑے میرے پاس آئے جنہوں نے بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسے منفی رجحان کے طور پر نہیں دیکھتا۔ بہت سے جوڑے اپنے کیریئر پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں اور والدین بننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ان کاکہناہے کہ بچے پیدا نہ کرنا اس سے بہتر ہے کہ خراب والدین کے ساتھ بچے کی زندگی بھی برباد ہو جائے۔علماءاورترقی پسندماہرےن کاکہناہے کہ ےہ تمام منفی سوچ کے نتائج ہےں۔اگرےہی سوچ رہی تو ترقی کاپہےہ رک سکتاہے۔اس قسم کی سوچ کوپروان چڑھنے نہےں دےناچاہئے ۔ معاشرہ مےں ناجائزاولادکی بھرمارہوجائے گی۔ےہ سوچ رکھنے والے اولادتوچاہتے ہےں مگران کی ذمہ داری لےنانہےں چاہتے ۔اسی طرح شادی بھی ہے ،فطری ضرورت پوری کرتے ہےں مگراس عورت کوباضابطہ اپنی ذمہ داری مےں لےنانہےں چاہتے ۔کہےں اےسانہ ہوکہ مہنگی زندگی کے خوف سے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرنہ جائےں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *