urdu news today live

سرمرزاسماعےل اورنثااحمدنے دسہرہ کاافتتاح کےاہے،بانومشتاق پراعتراض کےوں؟
دھرمستھلامعاملہ کواےن آئی اے کے حوالے کرنے کی ضرورت نہےں:وزےرداخلہ
بنگلور۔25اگست (سالارنےوز) بکرپرائزےافتہ مصنفہ بانو مشتاق کے ہاتھوں دسہرہ کے افتتاح کااعلان جب سے ہواہے ،تب سے زعفرانی ٹولہ کے سےنہ پرسانٹ لوٹنے لگے ہےں۔مختلف بےانات دےنے لگے ہےں۔کسی نے کہاکہ دسہرہ سیکولرازم کی علامت نہیں ہے۔ یہ ایک مذہبی تہوار ہے۔ درگا پوجا اور نوراتری کا تہوار ہے۔ یہ ایک مذہبی تہوار ہے جس کا آغازوڈیرکنبہ نے کیا تھا۔ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اس رسم کی ادائےگی کا عقیدہ نہ رکھنے والا اس طرح کے دسہرہ کا افتتاح کرنے کے لیے موزوں شخص کیسے ہو سکتا ہے؟۔ ایسے وقت میں جب اس پر بحث ہو رہی ہے، وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور نے اس معاملے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ دسہرہ ایک رےاستی تہوار ہے۔ یہ کسی ذات یا مذہب تک محدود نہیں ہے۔ کیا کسی ایک مذہب کو چھوڑ کر دسہرہ منایا جا سکتا ہے؟ کیا مرزا اسماعیل نے بطور دیوان دسہرہ نہیں منایا؟ کیا نثار احمد(کنڑاشاعر) نے دسہرہ نہیں منایا؟ ان سب پر کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔افتتاح کرنے والوں کاکوئی بھی عقےدہ کےوں نہ ہو؟ وہ چامنڈی کومانتے ہوں ےانہےں،وہ ان کااپنانجی معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ رےاست کا تہوار ہے جسے سب کو مل کر منانا چاہیے۔ وزیر داخلہ نے میسور میں دھرمستھلا معاملے پر بھی ردعمل دےا۔کہاکہ ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ تحقیقات کےسے کرےں ۔ پولیس تفتیش کے لیے جو کچھ بھی کرے گی وہ کرے گی۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ نارکوانالےسس ٹےسٹ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ایس آئی ٹی صحیح طریقے سے تفتیش کر رہی ہے۔ کیس کو این آئی اے کے حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیانات سے حقیقت سامنے نہیں آئے گی۔ پہلے بیانات دینا بند کریں۔ آپ تفتیش کے لیے وقت مقرر نہیں کر سکتے۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اتنے ہی وقت میں تفتیش مکمل کرلی جائے۔ بس میں نے اتنا کہا ہے کہ جلد از جلد تحقیقات مکمل کریں۔ دھرمستھلا کی سمت ریلیوں کی شکل مےں جانے کے بارے میںوزےرداخلہ نے کہاکہ ان سب کو منجو ناتھ دیوتا کو دیکھنے جانا چاہئے، انہیں جانے دیں۔ کیا منجوناتھ کو دیکھنے جانے والوں کو روکا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کوئی بھی اس کیس پر سیاست نہ کرے۔ آر ایس ایس کے معاملے کے بارے میںڈی کے شیوکمار نے اےک بےان دےاہے، اس پرسابق وزےر راجنانے اےک تبصرہ کےاہے،اس سلسلہ مےں سوال کےئے جانے پرپرمےشورنے کہاکہ راجنا کے بیان پر کوئی بیان نہیں دے سکتا۔ سارا مہیش کے محکمہ داخلہ میں رشوت ستانی کے الزام کے حوالے سے پرمےشورنے کہاکہ سا ر ا مہیش بھی وزےررہے ہےں،وہ اےک ذمہ دار لیڈربھی ہےں۔ رقم کس نے وصول کی اور کس نے دی؟ اگر آپ شکایت کرتے ہیں تو ہم تحقیقات کریں گے۔ کیاآپ رشوت کے بارے میں جانتے ہیں، اگر آپ اس کے بارے میں جانتے ہیںتوتحرےری طورپرشکاےت درج کرائےں۔ میں تحقیقات کروں گا۔

5 thoughts on “

  1. Fantastic read! 👏 I really appreciate how clearly you explained the topic—your writing not only shows expertise but also makes the subject approachable for a wide audience. It’s rare to come across content that feels both insightful and practical at the same time. At explodingbrands.de we run a growing directory site in Germany that features businesses from many different categories. That’s why I truly value articles like yours, because they highlight how knowledge and visibility can create stronger connections between people, services, and opportunities.Keep up the great work—I’ll definitely be checking back for more of your insights! 🚀

  2. Fantastic read! 👏 I really appreciate how clearly you explained the topic—your writing not only shows expertise but also makes the subject approachable for a wide audience. It’s rare to come across content that feels both insightful and practical at the same time. At explodingbrands.de we run a growing directory site in Germany that features businesses from many different categories. That’s why I truly value articles like yours, because they highlight how knowledge and visibility can create stronger connections between people, services, and opportunities.Keep up the great work—I’ll definitely be checking back for more of your insights! 🚀

  3. Fantastic read! 👏 I really appreciate how clearly you explained the topic—your writing not only shows expertise but also makes the subject approachable for a wide audience. It’s rare to come across content that feels both insightful and practical at the same time. At explodingbrands.de we run a growing directory site in Germany that features businesses from many different categories. That’s why I truly value articles like yours, because they highlight how knowledge and visibility can create stronger connections between people, services, and opportunities.Keep up the great work—I’ll definitely be checking back for more of your insights! 🚀

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *