urdu news today live

اقلیتی جوڑوں کی شادی میں مالی امداد کی اسکیم نئی شکل میں متعارف
اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کی طرف سے کرناٹکا اوپن یونیورسٹی کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کو بڑھاوا دینے کےلئے معاہدہ: جیلانی موکاشی
بنگلورو۔28 جولائی(رضوان اللہ خان،چیف رپورٹر)2013سے 2018کی مدت اقتدار کے دوران وزیر اعلیٰ سدارامیا کی طرف سے اقلیتی خاندانوں کو شادی بھاگےہ اسکیم کی سوغات دی تھی اس سے ہزاروں خاندانوں نے استفادہ کیا اب موجودہ دور میں سدارامیا اور ریاستی وزیر برائے ہاو¿زنگ، اقلیتی بہبود واوقاف ضمیر احمد خان نے اس اسکیم کو ایک نئی شکل دے کر دوبارہ شروع کیا ہے اس بار اداروں اور انجمنوں کی طرف سے کروائی جانے والی اجتماعی شادیوں میں شامل جوڑوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے 50ہزار روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے ۔ اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کی طرف سے اس اسکیم کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ ےہ بات پےر کے روز ریاستی اقلیتی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائرکٹر جیلانی موکاشی نے بتائی۔سالار سے ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے سال رواں کے بجٹ میں اس اسکیم کے نفاذکا اعلان کیا ۔ اس اسکیم کے تحت جوڑوںکی اجتماعی شادی کروانے والے ادارے کو شادی کا اہتمام کرنے کے اخراجات کے طور پر پانچ ہزار روپے فی جوڑا دئےے جاتے ہیں ۔
اسکالر شپس گھپلہ:جیلانی موکاشی نے بتایا کہ سابقہ بی جے پی دور اقتدار میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے اقلیتی طلباءکو دی جانے والی تعلیمی اسکالرشپس دھوکہ سے حاصل کرنے کے سلسلہ میں اب تک اقلیتی ڈائرکٹوریٹ نے چھ ایف آئی آر درج کئے ہیں آنے والے دنوں میں مزید چھ ایف آئی آر درج کر کے اس کےلئے ذمہ دار عناصر اوراداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ایس ایس ایل سی نتائج میں کمی: اس شکایت پر کہ اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کے تحت چلنے والے مولانا آزاد اسکولوں میں ایس ایس ایل سی کے نتائج میں کمی واقع ہوئی ہے جیلانی نے کہا کہ ڈائرکٹوریٹ کے تحت چلنے والے تمام اقامتی اسکولوں میں ایس ایس ایل سی کے نتائج97فیصد اور پی یو سی کے نتائج 98فیصد رہے۔ البتہ مولانا آزاد ماڈل اسکولوں میں نتائج پہلے امتحان میں 54فیصد اور دوسرے امتحان میں70فیصد تک محدود رہ گئے اس کی وجہ ےہ ہے کہ ان اسکولوں میں جہاں انگلش میڈیم میں تعلیم ہوتی ہے ان بچو ںکا زیادہ ترداخلہ ہوا ہے جو کنڑا اور اردو میڈیم سے آئے ہیں ان بچوں کو تیار کرنے میں دشواری ہوئی ہے تاہم آنے والے دنوں میں نتائج کو سدھارنے کےلئے اساتدہ کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔
کے پی ایس کے طرز پر ترقی: انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد ماڈل اسکولس کو ریاست بھر میں 300سے زیادہ ہیں ان کو کرناٹکا پبلک اسکولس کے طرز پر ترقی دینے اور وہاں ایل کے جی سے پی یو سی دوم تک تعلیم کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال پہلے مرحلہ میں 100مولانا آزاد اسکولو ں کو پبلک اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا ۔اگلے سال 100اور اس کے بعد اگلے سال میں باقی تمام اسکولوں کو پبلک اسکولوں میںبدلا جائے ۔
اوپن یونیورسٹی سے معاہدہ: جیلانی موکاشی نے بتایا کہ اقلیتی ڈائرکٹوریٹ کا کرناٹکا اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی سے معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اقلیتی طبقات سے وابستہ طلباءاور کسی بھی فاصلاتی تعلیمی کورس میں داخلہ لیں گے اور اس کے فیس کےلئے وہ اقلیتی ڈائرکٹوریٹ سے رجوع کریں گے تو ان کی پوری فیس ڈائرکٹوریٹ کی طرف سے ادا کی جائے گی۔ اوپن یونیورسٹی کے 25کورسس میں داخلہ لےنے والے طلباءاس اسکیم سے استفادہ کر سکتے ہیں۔اس یونیورسٹی کے مختصر مدتی سرٹی فکےٹ کورسس بھی اسپانسر کئے گئے ہیں اب تک اس کےلئے 3500درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کو ادھوری چھوڑ دینے والے نوجوانوں کو اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے اوپن یونیورسٹی سے اپنا گریجویشن اور ڈپلومہ مکمل کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *