ودی آخر اپوزیشن پارٹیوں کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لےتے
کرناٹک کی سدارامیا حکومت عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں مصروف : کھرگے
رائچور 23 جون(سالار نیوز)کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو اپوزیشن کو چھوٹی بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، اور پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے بعد بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ سے ان کی غیر موجودگی پر تنقید کی۔کھرگے نے کہا کہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی اپوزیشن کے تئیں ان کے کم احترام کی عکاسی کرتی ہے۔یہاں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے ریمارک کیا کہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستانی دہشت گردوں نے پہلگام میں 26افراد کو ہلاک کیا۔ جواب میں، ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے اور دہشت گردوں کو ختم کر دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ جہاں پوری قوم اور مسلح افواج ملک کے دفاع کےلئے متحد ہو کر کام کر رہی ہیں، کچھ افراد نے ذاتی کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔کھرگے نے براہ راست کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر وہ فوج میں کیپٹن، کرنل، یا لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر خدمات انجام دیتے، تو ہم ایک عظیم کام کرنے اور ملک کے لئے لڑنے کےلئے ان کی تعریف کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔کھرگے وزیر اعلیٰ سدارامیا، کانگریس کے وزرا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ رائچور میں تھے، جہاں انہوں نے کئی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور رائچور یونیورسٹی کے نام کی تقریب کی صدارت کی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ پر آل پارٹی میٹنگ کا مطالبہ کرنے والی پہلی کانگریس تھی۔انہوں نے نوٹ کیا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک کے لیڈروں نے میٹنگ میں شرکت کےلئے اہم مصروفیات کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، پھر بھی وزیر اعظم نے ملک میں ہونے کے باوجود شرکت نہ کرنے کا انتخاب کیا۔اس کی بجائے، وہ بہار کے انتخابات کی مہم میں مصروف تھے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ جب کہ ایک طرف ملک اور فوجی لڑ رہے تھے، وزیر اعظم نے ہمیں آل پارٹی میٹنگ میں مدعو کرنے کے بعد دوسری طرف مہم چلانے کا انتخاب کیا۔ یہ نامناسب ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کا رویہ اچھا نہیں ہے۔کھرگے نے خبردار کیا کہ اگر آپ اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو لیڈران، عوام اور خاص طور پر اس ملک کے نوجوان اسے برداشت نہیں کریں گے۔کھرگے نے امریکہ کو انتقامی ٹیکس لگانے سے روکنے میں ناکامی پر پی ایم پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی پھر ایک بار ٹرمپ سرکار نعرہ لگا رہے تھے۔ لیکن ٹرمپ نے ہندوستانی اشیاءپر بھاری ٹیکس لگا دیا۔ مودی نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔کانگریس سربراہ نے وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ ایران نے ہمیشہ ہندوستان کی حمایت کی ہے کیونکہ ملک اپنی ایندھن کی ضرورت کا 50 فیصد وہیں سے درآمد کرتا ہے۔کانگریس کے تجربہ کار رہنما نے کہا کہ اب ایران اور اسرائیل کے درمیان مسلح تصادم جاری ہے۔ ہمیں اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت جس طرح سماجی انصاف کے لیے کوشاں ہے، بی جے پی ملک میں کہیں بھی ایسا نہیں کرسکتی۔