urdu news today live

ِِذات کی مردم شماری: تنازعہ سلجھانے اے آئی ٹےکنالوجی استعمال کرنے کافےصلہ
اےس سی ،اےس ٹی، کروبااوراقلےت کے متحدہ ووٹ سے138حلقوں مےں جےت ےقےنی
بنگلور۔22اپرےل (سالارنےوز)رےاستی وزےراعلیٰ سدارامیا نے کابینہ میں ریاستی حکومت کے اہم ذات مردم شماری سروے کو رپورٹ پیش کرنے کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ کے تناظر میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ایک سروے کا سہارا لیا ہے۔ سدارامیا نے لوگوں کے ذہنوں کو سمجھنے کے لیے آرٹےفےشل انٹلی جنس(اے آئی۔،مصنوعی ذہانت) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سروے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے ذریعہ تمام حلقوں سے ووٹر لسٹ کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے کیا جائے گا۔ لیکن اس کا ذمہ دار کون سا ادارہ ہے؟ یہ سروے کس تاریخ سے شروع ہوگا؟ یہ کیا شکل اختیار کرے گا اس بارے میں معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ ذات کے سروے معاملہ کو سمجھنے کی حکمت عملی کے طورپراے آئی کاسہارالےاجارہاہے۔ ذات پات کی مردم شماری کے حوالے سے ریاست میں مختلف آراءہیں۔ لنگایت اور وکلیگا برادریوں نے اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ ذات پات کی مردم شماری میں غلط اعداد و شمار دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں دوبارہ سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس حوالہ سے مختلف کمیونٹیز کے سربراہان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔اس طرح ذات پات کی مردم شماری سروے رپورٹ کے حق میں اور اس کے خلاف ہونے والی بحث کے بعد سدارامیا نے اے آئی سروے کا سہارا لیا۔ گاو¿ں، وارڈ اور بلاک سطح کے اعدادوشمار فراہم کرکے نچلی سطح پر اصل صورتحال کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ درج فہرست ذات (ایس سی)،درج فہرست قبائل( ایس ٹی)، اقلیتی برادری اور کروبا طبقات اگراکھٹے ہوجائےں تورےاست کے کل 112 سیٹوں پر کانگرےس کی جیت کا امکان ہے۔ کروبا کو چھوڑ کر سات حلقوں میں او بی سی فیصلہ کن ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ وکلیگا، لنگایت اور لنگاےت کے طبقات اگرجمع ہوتے ہےں تورےاست کے 12 حلقوں میں جیت جائےں گے۔ وکلےگابےلٹ کہے جانے والے منڈیاضلع کے ساتوں حلقوں میں بھی اہندا کا کردار ہے۔ ہاسن کے ایک حلقہ کو چھوڑ کر تمام سات حلقوں میں اہندا ووٹرزکی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ شمالی کرناٹک میں لنگایت کا اثر ہے، لیکن وہاں بھی اہندا ووٹ ناگزیر ہیں۔ ان تمام حسابات پر غور کرتے ہوئے سدارامیا کو حکومت کی طرف سے ذات پات کی مردم شماری کے معاملہ پر واضح موقف کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اب وہ سروے کے ذریعہ معلومات اکٹھا کرنا شروع کر رہے ہیں۔آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تمام معلومات اکٹھی کرنا ممکن ہے۔ اس سلسلہ میں بہت سی ٹیکنالوجیز تیار کی جا رہی ہیں۔ اے آئی تمام شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔ سدارامیا نے لوگوں کی نبض چیک کرنے کے لیے اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی پہل کی ہے۔

4 thoughts on “

  1. Игнорирование этих признаков приводит к резкому ухудшению здоровья и тяжелым последствиям, которые можно предотвратить своевременным обращением к специалисту.
    Получить дополнительную информацию – [url=https://kapelnica-ot-zapoya-krasnodar77.ru/]после капельницы от запоя[/url]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *