urdu news today live

منگلورمےں کمشنراوراےس پی کاتبادلہ،خصوصی ٹاسک فورس تشکےل
بی کے ہری پرسادکوذمہ داری،حکومت کے سخت اقدامات کےارنگ لائےں گے؟
بنگلور۔30مئی (سالارنےوز)ریاستی حکومت نے جنوبی کنڑ ضلع میں سلسلہ وار قتل کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدامنی کا حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ےہ ضلع ریاست کا سب سے زیادہ فرقہ وارانہ حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ضلع میں قتل کے سلسلہ وار واقعات نے لوگوں کے امن و سکون کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ضلع کے تجارتی شعبہ اورکاروبار کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ عام لوگ خوف کے عالم میں جی رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی حکومت نے کچھ اہم فیصلے کےے ہیں۔ منگلورکے کمشنر انوپم اگروال پر کچھ الزامات لگائے گئے تھے۔ سماجی کارکنوں نے کھلے عام الزام لگایا کہ وہ شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگروال کے خلاف احتجاج اور مہم بھی چلائی گئی تھی۔ اب بالآخر اس کمشنر کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ساتھ مےں ضلع کے ایس پی کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ضلع کے لیے دو کھڑک اورسخت افسران کو اب جنوبی کنڑ ضلع میں تعینات کیا گیا ہے۔ سدھیر کمار ریڈی کو سٹی پولیس کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ نئے ایس پی کے طور پرڈاکٹر ارون کی تقرری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں ۔ سدھیر کمار ریڈی پہلے جنوبی کنڑ ضلع کے ایس پی رہے ہےں۔ جب وہ ایس پی تھے تو ضلع میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھےں۔ اس وقت ان فرقہ وارانہ تشددمناسب طریقہ سے سنبھالنے کی کوشش پران کی سراہنا بھی ہوئی تھی۔ دکشن کنڑا ضلع میں ضلع انچارج وزیر کے طور پر دنیش گنڈو راو¿ ذمہ دار ہیں۔ ا±لال اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے کے طور پر یوٹی قادروہاں ہے۔ لیکن چونکہ وہ ا سپیکر ہیں اس لیے انہیں سیاسی معاملات سے کچھ فاصلہ برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ضلع کی ذمہ داری کانگریس کے سینئر قائد اور قانون ساز کونسل کے رکن بی کے ہری پرساد سونپی گئی ہے۔ جمعرات کے روزوزےراعلیٰ سدارامیا نے خود بی کے ہری پرساد کے گھر گئے اور منگلورکے معاملہ پربات چیت کی۔ سدارامےا نے انہیں ضلع جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کو بھی کہا۔ چنانچہ ایک دو دنوں میں بی کے ہری پرساد ضلع کا دورہ کریں گے اور مختلف تنظیموں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔ وہ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ضلع میں قیام امن کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔ بی کے ہری پرساد اصل میں دکشن کنڑ ضلع سے ہیں، اس لیے وہ ضلع کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ اس سلسلہ میں انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع میں فرقہ وارانہ تنازعات کو روکنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اے این ایف ماڈل پر کام کرے گا، لیکن اس کا فارمیٹ ابھی تک سرکاری طورپرنہیں بنایا گیا ہے۔ ضلع میں جاری فرقہ وارانہ تصادم کا نشانہ معصوم لوگ بن رہے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت نے ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ لیکن دےکھناےہ ہے کہ ان اقدامات کے اثرات کیا ہوں گے۔ جنوبی کنڑ ضلع میں فرقہ وارانہ تقسیم چل رہی ہے ۔ ضلع میں مذہبی تنظیمیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ یہ تنظیمیں منظم طریقہ سے سیاسی حمایت سے ضلع میں قائم ہیں۔ نفرت اور عدم اعتماد نے ضلع کے لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کر دیا ہے۔ اس تناظر میں، اس بات پر غور کرنا بہت ضروری ہے کہ حکومت کے اقدامات کا نچلی سطح پر کیا اثر پڑے گا۔ کسی ضلع میں خراب ماحول کو ٹھیک کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری محکمہ پولیس کی ہے۔ ضلع کے عام لوگوں کا خیال ہے کہ اگر محکمہ پولیس اس سلسلہ میں مناسب کارروائی کرے تو فرقہ وارانہ قتل و غارت پر قابو پانا ممکن ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *