کر ، کے اےچ منی اپا، بےرتی سرےش اورچکبالا پورکے رکن اسمبلی پردےپ اےشور حاضر تھے ۔
وقف بورڈ مےں اےمبولےنس اور فرےزرس کی خرےداری مےں 3کروڑ روپئے کا گھپلہ
وزےر اعلیٰ کی ہداےت کے باوجود انکوائری کرانے مےں تاخےر: سےد اشرف
بنگلور۔2 جولائی(سالار نیوز) کرناٹکا اسٹےٹ وقف بورڈ کی طرف سے 26ایمبولےنسوں اور242فرےزرس خرےد کر مختلف علاقوں کی مساجد کو فراہم کئے گئے تھے۔ اس کی خرےداری مےں بڑا گھپلہ کا الزام سامنے آیا ہے۔ اس کی تحقےقات کےلئے وزےر اعلیٰ کی طرف سے ہداےت کے باوجود اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سماجی کارکن اور سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے سیاسی مشیر سےد اشرف نے مےڈےا کو بتاےا کہ وقف بورڈ کے رےکارڈس کے مطابق فی ایمبولےنس 36لاکھ روپے سے زیادہ رقم دے کرخرےدی گئی ہے۔ جبکہ کمپنی رےٹ ڈسکاﺅنٹ کے ساتھ ا س کی قیمت بہت کم ہے۔ اس طرح اےک ایمبولےنس پر8لاکھ روپے سے زےادہ ادا کئے گئے ہےں۔ 26عدد ایمبولےنس پر دو کروڑ 9 لاکھ روپئے زےادہ ادا کئے گئے ۔سےد اشرف نے بتاےا کہ اسی طرح 242 فرےزرس خرےد گئے ۔ اےک فرےزر کی قےمت82,600 بتائی گئی ہے۔ جبکہ مارکےٹ رےٹ 34ہزار سے 38ہزار روپئے ہے۔ اس طرح فرےزرس کی خرےدی مےں اےک کروڑ 8لاکھ روپئے کا گھپلہ ہوا ہے۔ اس کی خرےدی کا کنڑا کٹ اےک کنسٹر کشن کمپنی کو دےا گےا تھا۔ اور ےہ فرےزرس کئی مساجد مےں ناکارہ ہوگئے ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ ایمبولےنس اور فرےزرس کی خرےدی کا فےصلہ وقف بورڈ کے سابق چےئرمےن انور باشاہ کی صدارت مےں کیا گےا تھا۔ اس مےٹنگ سے ناصر حسےن اےم پی اور تنوےر سےٹھ اےم ےل اے غےر حاضرتھے۔ بورڈ مےں کیا گےا فےصلہ سی ای او کے سامنے گےا تو سی ای او کی ذمہ داری تھی کہ اس کی جانچ کرتے ۔لےکن انہوں نے اےسا نہےں کےا۔سےد اشرف نے بتاےا کہ انہوں نے25جون کو وزےر اعلیٰ سے ملاقات کرکے اےک ےاد ادشت پےش کی ۔ وزےر اعلیٰ نے فوری طور پر اےک آئی اے اےس افسر کو اس معاملہ کی تحقےقات کرانے کی ہداےت دی اور اس افسر نے دوسرے متعلقہ افسر کو اس کی اطلاع کی لےکن اب تک اس پر کوئی کارروائی نہےں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس معاملہ کی جانچ نہےں ہوئی تو وہ دوبارہ وزےر اعلیٰ سے ملاقات کرکے شکاےت کرےں گے۔بعض کانگریس اراکین اسمبلی کے مسلم دل آزار روےہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے منڈیا ضلع کے سری رنگا پٹن کے رکن اسمبلی رمیش بنڈی سدے گوڑا کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے کاشت کاری کےلئے مسلمانوں کو زمین دینے والے افسرکو سولی پرچڑھا دینے کی دھمکی دی ۔ اسی طرح ایک سرکاری اردو اسکول کی تعمیر میں نلمنگلا کے رکن اسمبلی این سرینواس کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سرکردہ لےڈروں کی طرف سے ہدایت کے باوجود سرینواس کام ہونے نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں وہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا سے شکایت کریں گے اور ان کو واضح طورپر بتائیں گے کہ اگرکانگریس کے اراکین اسمبلی کا مسلمانوں کے تئیں ایسا روےہ ہو گا تو