urdu news today live

اگلے انتخابا ت میں اقتدار پر بنے رہنا کانگریس کےلئے مشکل ہو جائے گا۔
وقف ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کا مسلم پرسنل لاءکا اعلان
4 جولائی کو کرناٹک میں ریاست گیر انسانی زنجیر
بنگلور۔ 2 جولائی (پریس ریلیز): کرناٹک میں وقف ترمیمی قانون 2025 ءکے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیر قیادت ایک خاموش، پرامن اور پراثر احتجاجی مظاہرہ 4 جولائی 2025 بروز جمعہ بعد نماز جمعہ ریاست بھر میں بالخصوص شہر گلستان بنگلور میں انسانی زنجیر (Human Chain) کی شکل میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ احتجاج حکومت کی جانب سے اوقاف کی شرعی و آئینی حیثیت کو مسخ کرنے، اس کی خود مختاری سلب کرنے اور ملت کی صدیوں پرانی امانتوں پر غیر دستوری قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف ایک منظم عوامی آواز ہے۔ یہ احتجاجی زنجیر ملت کے اجتماعی شعور، وقار اور بیداری کا ثبوت بنے گی اور حکومت تک یہ پیغام پہنچائے گی کہ مسلمان قوم اپنے اوقاف پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گی۔ بورڈ کی قیادت میں جاری ”وقف بچا¶، دستور بچا¶ تحریک“کے ریاستی کنوینر امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی اور معاون کنوینرز کی پانچ رکنی کمیٹی کے ارکان مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیة علماءکرناٹک)، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، مولانا سیدتنویر پیر ہاشمی (صدر جماعت اہل سنت کرناٹک)، محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، اور دیگر کور کمیٹی کے اراکین مولانا اعجاز احمد ندوی (خطیب جامع مسجد اہلحدیث بنگلور)، ڈاکٹر سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا عبد الرحیم رشیدی (صدر جمعیة علماءکرناٹک)، مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، مولانا شبیر احمد ندوی (مہتمم مدرسہ اصلاح البنات بنگلور)، مولانا عبد القادر شاہ واجد (خطیب جمعہ مسجد بنگلور)، محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیة علماءکرناٹک)، مولانا نوشاد عالم قاسمی (صدر ملی کونسل کرناٹک)، عاصم سیٹھ افروز (رکن بورڈ)، مفتی شمش الدین بجلی (جنرل سکریٹری جمعیة علماءکرناٹک)، تفہیم اللہ معروف ، عثمان شریف (سکریٹری جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ)، منصور احمد قریشی (جمعیة اہلحدیث کرناٹک)، فیاض شریف (سی ای او وزڈم اسکول)، محمد فرقان (ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) وغیرہ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اپیل جاری کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام مسلمانوں، علماءکرام، ائمہ مساجد، دینی تنظیموں، ملی اداروں، نوجوانوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور اس انسانی زنجیر کو پورے وقار، اتحاد اور خاموشی کے ساتھ کامیاب بنائیں۔ اس احتجاج کا مقصد کسی قسم کی نعرے بازی یا جذباتی مظاہرہ نہیں بلکہ ایک پرامن اور جمہوری انداز میں اپنا م¶قف ملک کے عوام، عدلیہ اور حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔ تمام اضلاع، شہروں اور بستیوں میں مقامی سطح پر عوام ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نماز جمعہ کے بعد مخصوص راستوں اور مقامات پر خاموشی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہر جگہ نظم و ضبط کے ساتھ صف بندی ہو، کسی قسم کی اشتعال انگیزی، ہنگامہ یا بدنظمی نہ ہو۔ کسی پارٹی، جماعت یا گروہ کا جھنڈا استعمال نہ کیا جائے۔ صرف ملت کا متحد پیغام ہو: وقف بچا¶، دستور بچا¶۔ تمام مقامات پر ہاتھوں میں بورڈ کی ہدایات کے مطابق بینر اور پلے کارڈز ہوں جن پر اردو، انگریزی یا کنڑا میں م¶ثر پیغامات درج ہوں۔ تمام شرکاءخاموشی کے ساتھ ان پیغامات کو ہاتھوں میں تھامے کھڑے ہوں۔ میڈیا کو اس مظاہرے کی اہمیت اور سنجیدگی سے باخبر کیا جائے اور اس احتجاج کی پرامن نوعیت کو واضح کیا جائے۔ مقامی سطح پر میڈیا نمائندگان کو پیشگی اطلاع دی جائے تاکہ مظاہرے کی رپورٹنگ م¶ثر انداز میں ہو۔ احتجاج کی تصویری اور ویڈیو رپورٹیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ریاستی ذمہ داران کو ارسال کی جائیں اور سوشل میڈیا پر درج ذیل ہیش ٹیگز کے ساتھ پوسٹ کی جائیں #SaveWaqfSaveConstitution اور #WithdrawWaqfAmendments۔ یہ احتجاج نہ صرف وقف کے تحفظ کی ایک کوشش ہے بلکہ آئینی وفاداری، ملی غیرت اور دینی تشخص کے دفاع کی اجتماعی کاوش ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہ گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں گی۔ ملت کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اس پکار پر لبیک کہے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائیں، اور امت کے حقوق کے تحفظ کا علم بلند کرے۔
نوٹ برائے شہر بنگلور: کرناٹک ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق بنگلور شہر میں عوامی احتجاج صرف فریڈم پارک میں ممکن ہے، لہٰذا انسانی زنجیر کا اہتمام اپنی مساجد کے احاطہ میں خاموشی اور وقار کے ساتھ کریں۔

2 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *