urdu news today live

توہےن آمےز تبصرہ: روی کمار آر اےس اےس کا تربےت ےافتہ
بی جے پی لیڈر منواسمرتی کی پیروی کرتے ہیں- پرینک کھرگے
کلبرگی۔4جولائی (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر پرینک کھرگے نے آج الزام لگایا کہ ریاست میں جن لوگوں کا علاج اسپتالوں یا نمہانس جیسے اداروں میں ہونا چاہیے ، انہیں پنچایتوں اور کونسلوں میں جگہ دی جارہی ہے ۔مسٹر کھرگے نے چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے اور اپوزیشن کے چیف وہپ این روی کمار کے متنازعہ تبصرے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی۔مسٹر کھرگے نے یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا رویہ کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ یہ خواتین مخالف اور منفی رویے کی ایک طویل روایت کا حصہ ہے جس کی حوصلہ افزائی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی تربیت سے ہوتی ہے جس سے مسٹر روی کمار وابستہ ہیں۔مسٹر کھرگے نے قدیم ہندو گرنتھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے ۔ وہ آر ایس ایس کا تربیت یافتہ کارکن ہے ۔ آر ایس ایس آئین پر یقین نہیں رکھتا ہے ۔ وہ منواسمرتی میں یقین رکھتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ منواسمرتی خواتین کو کیا مقام دیتی ہے “۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسٹر روی کمار نے اس طرح کی بات کی ہے ۔ اس سے قبل بھی وہ بے بنیاد الزامات لگا چکے ہیں۔ ان الزامات میں کانگریس کارکنوں پر کلبرگی کے قاتلوں کو بچانے کا الزام بھی شامل تھا۔ لیکن یہاں کلبرگی میں ہماری ڈپٹی کمشنر فوزیہ ترنم نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور یہاں تک کہ عدالت نے مسٹر روی کمار کی سرزنش کی۔ پھر بھی انہوں نے معافی نہیں مانگی۔وزیر نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ مسٹر روی کمار نے ڈاکٹر رجنیش کے خلاف اپنے تبصرے پر عوامی تنقید کے باوجودابھی تک معافی نہیں مانگی ہے ۔ “انہوں نے کہا، “اگر انہوں نے معافی نہیں مانگی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔ یہ اور بھی خطرناک ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ بی جے پی کی جانب سے ایسے افراد کو آگے بڑھانا آئینی اقدار کے لئے طویل مدتی خطرہ پیداکرتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *