urdu news today live

تعلیمی شعبہ میںبار ہا ہونے والے گھپلے تشویش کا سبب
نیٹ امتحان کے پرچے فاش ہونے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ ضروری: منصور علی خان
بنگلورو۔29 جولائی(سالار نیوز) یو جی سی اسکینڈل، نیٹ امتحان کے پرچوں کے افشاءاور اسی طرح شعبہ تعلےمات میں ہونے والی دھاندلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی سی سی سکریٹری اور ماہر تعلیمات منصور علی خان نے ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سماج کے متوسط اور نچلے طبقے کو تعلیم سے محروم کرنے کے ناپاک منصوبے کے تحت ےہ تمام دھاندلیاں کروائی جا رہی ہیں اور ان میں شامل افراد پر کوئی گرفت بھی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ میڈےکل سیٹ میں داخلہ لےنے کےلئے محنت اور دن راست تیاری کرنے والے طلباءکے خوابوں کو کچلنے کےلئے اس امتحان کے پرچہ سوالات کو فاش کیا جاتا ہے اور اس کو 30-32لاکھ روپے میں بیچ دیاجاتا ہے اس کےلئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہو تی ۔انہوں نے کہا کہ ےہ محض ایک کوتاہی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نیٹ امتحان کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ ملک میں ایک ایسا نظام بنانے کی سازش رچی گئی ہے جہاں پر اعلیٰ تعلیم سے غریب اور متوسط طبقہ کو محروم کر دیا جائے۔ کانگریس پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی اور اس کی شدت سے مخالفت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان کروانے والی نیشنل ٹیلنٹ ایجنسی کی طرف سے پرچہ سوالات فاش ہوجانے پر کارروائی کی بجائے خاموشی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان میں دن رات محنت کرکے 700تک نمبر لینے والے طلباءکی حق تلفی ہو جائے گی اور وہ عناصر میڈےکل سیٹوں پر قابض ہو جائیں گے جو بکے ہوئے پرچہ سوالات کی بنیاد پر تیار ی کر کے جوابات لکھ دیں گے اور پاس ہو جائیں گے۔اس سے ےہ خطرناک تاثر قائم ہو جائے گا کہ کرپشن کے آگے صلاحیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں جو لوگ ناکام رہے انہی کی طرف سے داخلی جانچ ناکافی ہے۔بلکہ اس کی سپریم کور ٹ کے ایک جج کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہئے۔ اس گھپلہ میںجو بھی شامل ہے اوپر سے نیچے تک تمام کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ےہ ہونہار طلباءکے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے اور ایسا نہیں ہونے دینا چاہئے۔

One thought on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *