میں بھکاری نہیں کہ مجھے غریب مکینوں کے پےسوں پر گزارا کرنا پڑے
مجھ پر غریبوں سے پےسہ لےنے کا الزام ثابت ہوا تو اسی پل وزارت چھوڑ دوں گا: ضمیر احمد خان
بنگلور۔24جون(سالارنےوز)ہاو¿زنگ، اقلیتی بہبود اور اوقاف کے وزیر ضمیر احمد خان نے کہا کہ وہ اس قدرغریب آدمی نہیںہےںکہ انہےں پسماندہ افرادکےلئے بنائے گئے مکانات کے عوض پیسے لے کر زندہ رہنا پڑے۔منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے غریبوں کےلئے مکانات مختص کرنے کسی سے بھی رقم لی ہے، تو کسی اور کو ان سے استعفیٰ مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیں گے۔ضمیر احمد خان نے نشاندہی کی کہ غریب لوگوں کے گھروں کےلئے پیسے لینا ایک ناقابل معافی جرم ہے اور ان کے محکمہ میں اس طرح کے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہاو¿زنگ کے مکانات کے عوض رقم لئے جانے کے بارے میں سینئر ایم ایل اے بی آر پاٹل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا جائے گا۔ تحقیقات کے بعد اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاٹل سے بھی براہ راست بات کریں گے۔وزیر نے واضح کیا کہ پاٹل نے خاص طور پر وزیر پر الزام نہیں لگایا اور نہ ہی کسی عہدیدار کا نام لیا۔ اگر پنچایت سے کسی نے رقم لی ہے، اور اگر اسے اس کی اطلاع ملی تو کارروائی کی جائے گی۔ضمیر احمد نے کہا کہ ان کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو اس معاملہ سے پوری طرح آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ چونکہ وہ دورے پر تھے اور اس لیے پہلے جواب نہیں دے سکے۔ اب انہوں نے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کی ہیں۔ رکن اسمبلی بیلور گوپال کرشنا کی طرف سے ان کے استعفیٰ کے مطالبہ کے بارے میں پوچھے جانے پر ضمیراحمد نے کہا کہ بیلور کے پاس حقائق نہیں ہیں۔ ہاو¿زنگ محکمہ کا کسی مستحق کو گھر کی الاٹمنٹ کے عمل میں کوئی کردار نہیں ہے۔ فائدہ اٹھانے والوں کا انتخاب گرام پنچایت کی سطح پر ہوتا ہے۔ اراکین اسمبلی کے سفارشی خطوط کی بنیاد پر مکانات الاٹ کیے جاتے ہیں۔ الند حلقہ میں بھی بی آر پاٹل کے خط کی بنیاد پر الاٹمنٹ کئے گئے تھے۔