urdu news today live

اولا،اوبربائک ٹےکسےوں کو15جون تک سروےس جاری رکھنے کی اجازت
بنگلور۔29اپرےل (سالارنےوز)کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل (29 اپرےل) کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے اولا،اوبر اوررےپےڈو بائیک ٹیکسی خدمات کو ریاست میں 15 جون تک جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔اوبرانڈےاسسٹمس پرائےوےٹ لمیٹڈ،لی، روپن ٹرانسپورٹیشن سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور اے این آئی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے رٹ عرضی دائرکی گئی تھی،جس مےں کمپنی نے اپنی بائیک ٹیکسی سروس جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔ بی ایم جسٹس شیام پرساد کی سنگل رکنی بنچ نے آج درخواست پر سماعت کی اور اسے منظور کر لیا۔ رےاستی وزیرٹرانسپورٹ رام لنگا ریڈی نے 25 اپریل کو محکمہ ٹرانسپورٹ کے سکریٹری اور ٹرانسپورٹ اینڈ روڈ سیفٹی کمشنر کو تمام قسم کی بائک ٹیکسیوں کے آپریشن کو معطل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے حال ہی میں اولا، اوبر اور ریپیڈو جیسی متعلقہ کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بائیک ٹیکسی خدمات کو 6 ہفتوں کے اندر معطل کر دیں جب تک کہ ریاستی حکومت موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 93 کے تحت مناسب رہنما خطوط تیار نہیں کرتی ہے۔ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ریاست میںاولا ،اوبراور رےپےڈو بائیک ٹیکسیوں کے آپریشن کو 6 ہفتوں کے اندر روک دے، عدالت کی طرف سے چھ ہفتے کی مہلت دینے کے بعد عدالت نے حکومت کو بائیک سٹی آپریشن کے حوالہ سے تین ماہ کے اندر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت نئے قوانین بنانے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ اس کے نتیجہ میں ان ایگریگیٹر کمپنیوں کو قانونی جنگ میں سخت دھچکا لگا ہے ۔ دلائل سننے کے بعد بنچ نے کہاکہ ریاستی حکومت نے بائیک ٹیکسیوں کے لئے کوئی اصول نہیں بنائے ہیں۔بائیک ٹیکسیاں قواعد و ضوابط کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے سیکشن 3 کے تحت ضروری قواعد اور متعلقہ رہنما خطوط جاری کیے جانے تک ریاست میں بائیک ٹیکسیاں نہیں چل سکتی ہیں۔ اس لئے ریاستی حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ تمام بائیک ٹیکسی آپریشن 6 ہفتوں کے اندر بند کر دیئے جائیں۔ درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور حکومت کو 2022 میں موٹر بائیک ٹیکسیوں کی اجازت دینے کی ہدایت کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں درخواست گزار کمپنیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے بائیک ٹیکسی آپریشنز کے خلاف کسی بھی زبردستی کارروائی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

16 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *