دھرمستھلا پراسرار قتل اور اجتماعی تدفین کے الزامات کی جانچ کےلئے ایس آئی کی تشکےل
بنگلورو20 جولائی(سالار نیوز) ریاستی حکومت نے دھماکہ خیز میڈیا رپورٹس اور کرناٹک اسٹیٹ ویمن کمیشن کی باضابطہ درخواست کے بعد، چونکا دینے والے دھرمستھلا سلسلہ وار قتل کے الزامات کی تحقیقات کو باضابطہ طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)کو منتقل کر دیا ہے۔19 جولائی 2025 کے ایک سرکاری حکم نامہ میں، محکمہ داخلہ نے ان الزامات کی جن میں جن میں اجتماعی قبریں، جنسی تشدد، اور دھرماستھلا اور اس کے آس پاس خواتین اور طلبہ کی گزشتہ دو دہائیوں میں گمشدگی شامل ہےں، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کےلئے ایس آئی ٹیکی تشکیل کا اعلان کیا۔دکشن کنڑا پولیس کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ارون کے نے ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 19جولائی تک دھرمستھلا پولیس اسٹیشن کا کیس نمبر 39/2025 باضابطہ طور پر SIT کو سونپ دیا ہے۔ ٹیم جلد ہی تحقیقات کا چارج سنبھال لے گی۔یہ تحقیقات ایک سابق صفائی کارکن کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے ایک سنسنی خیز بیان کی بنیاد پر ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دھرمستھلا کے علاقے میں سینکڑوں انسانی لاشیں دفن ہیں۔12 جولائی کو، قومی میڈیا چینلوں بشمول ٹائمز ناو¿، نے انسانی کھوپڑی کی دریافت اور ایک خاتون میڈیکل طالبہ کی گمشدگی کا الزام لگانے والے خاندان کی گواہی کی اطلاع دی۔ ریاستی خواتین کمیشن نے ان رپورٹوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور 14جولائی کے اپنے خط میں ریاستی حکومت سے ایس آئی ٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔ کمیشن نے دو دہائیوں پر محیط غیر فطری اموات، عصمت دری، گمشدگیوں اور وحشیانہ تشدد کے نمونوں کو اجاگر کیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور طالبات شامل ہیں۔ایس آئی ٹی کی قیادت ڈاکٹر پرنب موہنتی، آئی پی ایس، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (انٹرنل سیکورٹی ڈویژن)، بنگلور کریں گے، جو ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے۔ دیگر اراکین میں ایم این انوچیت، آئی پی ایس، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (رکروٹمنٹ)، بنگلور،سومیا لتا، آئی پی ایس، ڈپٹی کمشنر آف پولیس، سی اے آر ہیڈ کوارٹر، بنگلور سٹی،جتیندر کمار دیاما، آئی پی ایس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، انٹرنل سیکورٹی ڈویژن، بنگلور شامل ہیں۔ایس آئی ٹی کو نہ صرف رجسٹرڈ کیس (بھارتی نیا سنہتا کی دفعہ 211Aکے تحت جرم نمبر 39/2025)بلکہ دیگر متعلقہ مجرمانہ مقدمات کی بھی تحقیقات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو کرناٹک بھر کے دیگر تھانوں میں درج کیا گیا ہو یا درج کیا جا سکتا ہے۔ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دکشن کنڑا ضلع پولیس ہیڈکوارٹر سے باہر کام کرے اور وہ دستیاب مقامی وسائل سے کام لے۔ ڈائرکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو وقتاً فوقتا ًاپ ڈیٹس جمع کروانے کا بھی حکم دیا گیا ہے، ڈی جی پی کے دفتر کے ذریعہ ریاستی حکومت کو حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی۔محکمہ داخلہ(کرائمز)کے انڈر سکریٹری ایس امبیکا کے ذریعہ جاری کردہ یہ حکم چیف سکریٹری، وزیر داخلہ سکریٹریٹ اور متعلقہ محکموں کے پرنسپل سکریٹریوں سمیت سینئر عہدیداروں کو بھیج دیا گیا ہے۔