urdu news today live

بی جے پی دور حکومت میں مجھے دوگنے فنڈ کا لالچ دیا گیاتھا
شرط ےہ تھی کہ گھپلوں پر بیان بازی کرنا چھوڑ دوں: پرےنک کھرگے
بنگلورو۔21 جولائی(سالار نیوز)ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات اور آئی ٹی بی ٹی پرےنک کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی کی طرف سے ان کو ماضی میںےہ پےش کش کی گئی تھی کہ وہ سابقہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہوئے پولیس سب انسپکٹر بھرتی گھپلہ، بٹ کوائن گھپلہ اور دیگرکے بارے میں اگر بیان بازی بن کردیں گے تو ان کے حلقہ کےلئے دوگنا گرانٹ دیا جائے گا۔ پےر کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ےہ ا س وقت کی بات ہے جب کانگریس اپوزیشن میں تھی ۔ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی بی جے پی اراکین اسمبلی کی طرف سے ان کو آفر دیا گیا کہ اگر وہ اپنی زبان بند رکھیں گے توان کو دوگنا گرانٹ دیا جائے گا۔ جب انہوں نے بی جے پی اراکین کی بات نہیں مانی تو ان کے حلقہ کو ملنے والا 280کروڑ روپیوں کا گرانٹ روک لیا گیا ۔اس مرحلہ میں خاموش ہو گئے اور طے کیا کہ جب کانگریس حکومت آئے گی تب دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو گرانٹ کی تقسیم کے مرحلہ میں حکمران پارٹی کے اراکین اسمبلی کو ترجیح دیا جانا معمول رہا ہے۔ لےکن موجودہ کانگریس حکومت نے کسی امتیاز کے بغیر ترقیاتی کاموں کو جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتینا ہولے پراجیکٹ جہاں پر چلایا جا رہا ہے وہاں زیادہ تر اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ بی جے پی کے ہیں اس کے باوجود اس پراجیکٹ کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ کلین پتھ منصوبے کے تحت گرانٹ کی تقسیم برابر ہو رہی ہے۔ اس معاملہ میں بی جے پی کے اراکین خاموش کیوں ہیں؟بی جے پی کے اس دعویٰ پر کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میسور میں عوامی پروگرام کے دوران نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کی توہین کی ہے۔ پرےنک نے کہا کہ بی جے پی دن بدن اپنی اہمیت کھو رہی ہے اس لئے ریاست کے سیاسی منظر نامہ میں اپنے وجود کو بنائے رکھنے کےلئے اس طرح کی بیان بازی کرتی رہتی ہے اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔کانگریس صدر ملےکارجن کھرگے کو کانگریس کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کا دعویدار قرار دینے ریاستی بی جے پی صدر وجیندرا کی مانگ کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے پرےنک نے کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے وزیر اعظم کے عہدہ سے مودی کو ہٹانے کی بات کہی ہے بی جے پی پہلے اس پر عمل کر لے کانگریس میں کیا ہو رہا ہے اس کی فکر بعد میں کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *