urdu news today live

موڈا کیس میں سپریم کور ٹ کا فیصلہ خوش آئند: کانگریس قائدین
عدالت نے بی جے پی کے فرضی پروپگنڈہ کی ہوا نکال دی : سرجے والا،ضمیر احمد ، سلیم احمد اورمنصور علی خان کا رد عمل
بنگلورو۔21 جولائی(سالار نیوز)اے آئی سی سی جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی اہلےہ پاورتی اور ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات بائرتی سریش کے خلاف ای ڈی کی طرف سے سمن جاری کرنے کی کارروائی پر روک لگانے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھنے اورسپرےم کور ٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کو بدنام کرنے بی جے پی کی طرف سے جو فرضی اور جھوٹے الزامات لگائے گئے،عدالت عظمیٰ نے ان کی قلعی کھو ل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ای ڈی کی طرف سے مشترکہ طور پر جو فرصی پروپگنڈہ سدارامیا کے خلاف چلایا جا رہا تھا عدالت عظمیٰ نے اس کو بے نقا ب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کے خلاف موڈا معاملہ میں بی جے پی نے جھوٹے الزامات گھڑے تھے ۔ اس کےلئے بی جے پی نے گورنر کے دفتر کا غلط استعمال کیا اور سدارامیا اور ان کی اہلےہ کو بدنا م کرنا چاہا۔ سرجے والا نے کہا کہ پہلے کر ناٹک ہائی کورٹ اور اب سپریم کور ٹ نے ےہ صاف کر دیا ہے کہ اس فرضی پروپگنڈہ کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔
©©ضمیر احمدخان: ریاستی وزیربرائے ہاو¿زنگ ، اقلیتی بہبود اور اوقاف ضمیر احمد خان نے مودڈا معاملہ میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کو انصاف کی جیت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مرکزی حکومت نے آئینی ایجنسیوں ای ڈی ، سی بی آئی وغیرہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریفوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اور ےہ تبصرہ کہ ووٹروں کی لڑائی سیاسی پارٹیوں کو آپس میں لڑنے دیا جائے اور ای ڈی اس میں فریق کیوں بن رہی ہے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایسے بہت سارے معاملوں میں جہاں ای ڈی اور دیگرایجنسیوں کی طرف سے زیادتی ہو رہی ہے ان کو اس سے راحت ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سدارامیا کی سیاسی طاقت کا مقابلہ کرنے میں ناکام بی جے پی کی طرف سے ان کو ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کرنے کی کوشش میں اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔
سلیم احمد: کرناٹک لیجس لےٹو کونسل کے چیف وہپ سلیم احمد نے اپنے ایک اخباری بیان میں موڈا معاملہ میں سپریم کور ٹ کے تازہ فیصلہ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے آئی ٹی اور ای ڈی کو اپنی محاذی تنظیموں کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی اور ان کے ذریعہ اپوزیشن پارٹیوں کو کچلنا چاہا۔ موڈا معاملہ میں سدارامیا کے خاندان کا کوئی رول نہیں تھا اس کے باوجود ان کو کٹھہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ عدالت نے اس معاملہ میں ای ڈی کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دلائی اور سیاسی مقاصد کےلئے استعمال ہونے سے باز رہنے کی تاکید کی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔
منصور علی خان: اے آئی سی سی سکریٹری منصور علی خان نے موڈا معاملہ میں سپریم کور ٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے تبصرے سے ےہ بات صاف ہو گئی ہے کہ مرکزی حکومت کس طرح اپنے سیاسی فائدے کےلئے آئینی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی سیاسی طاقت کا میدان میں مقابلہ کرنے میں ناکام بی جے پی ہر ریاست میں انتخابات کے مرحلہ میں یا برسراقتدار حکومتوں کو گرا کر سودے بازی کے ذریعہ اپنی حکومت قائم کرنے کے مرحلہ میں ای ڈی اور دیگرایجنسیوں کا کھل کر غلط استعمال کرتی رہی ہے۔ اب عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد مرکزی بی جے پی رہنماو¿ں کو چاہئے کہ ان حرکتوں کےلئے ملک کے عوام سے معافی مانگیں اور ساتھ ہی ایجنسیوں کو چاہئے کہ اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی کے مرحلہ میں سیاسی دباو¿ کاشکار نہ ہوں اور کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار بن کر رہ جانے سے گریز کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *